نئی دہلی، 7/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) آن لائن فوڈ ڈیلیوری کمپنی 'سوئیگی' (Swiggy) کے ایک سابق ملازم پر 33 کروڑ روپے کے گھوٹالے کے الزام کا حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ میڈیا ایک رپورٹ کے مطابق اس ملازم نے گزشتہ کئی سالوں میں اس غبن کو انجام دیا ہے۔ کمپنی کی مالی سال 2024 کی سالانہ رپورٹ سے یہ جانکاری سامنے آئی ہے۔ سوئیگی نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک باہری ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں اور اس ملازم کے خلاف قانونی شکایت درج کروا دی ہے۔
کمپنی نے 4 ستمبر کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ موجودہ سال کے دوران گروپ کو اپنی ایک ذیلی کمپنی میں تقریباً 32.67 کروڑ روپے کے غبن کا پتہ چلا ہے۔ اس رقم کو ایک سابق ملازم نے گزشتہ سالوں میں غبن کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جانچ کے دوران ملے ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد گروپ نے 31 مارچ 2024 کو ختم ہوئے مالی سال کے دوران درج بالا رقم خرچ کی شکل میں درج کیا ہے۔
غور طلب رہے کہ سوئیگی نے اس سال 26 اپریل کو اپنے نیشنل پبلک آفر (آئی پی او) کے لیے ڈرافٹ پیپر جمع کرائے تھے اور منی کنٹرول کے بارے میں سب سے پہلے خبر دی تھی۔ سوئیگی نے اپنے اس آئی پی او کے ذریعہ قریب 10414 کروڑ روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اس میں سے 3750 کروڑ روپے نئے شیئر جاری کر کے حاصل کیے جائیں گے، وہیں قریب 6664 کروڑ روپے آفر فار سیل سے (او ایف ایس) کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔